ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ننجنگڈھ 73،گنڈل پیٹ 77فیصدپولنگ ضمنی اسمبلی انتخابات پرامن:13 اپریل کو ووٹوں کی گنتی

ننجنگڈھ 73،گنڈل پیٹ 77فیصدپولنگ ضمنی اسمبلی انتخابات پرامن:13 اپریل کو ووٹوں کی گنتی

Mon, 10 Apr 2017 10:51:08    S.O. News Service

بنگلورو،9/اپریل(ایس او نیوز) 2018 کے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل اہم سمجھے جانے والے ننجنگڈھ اورگنڈل پیٹ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کی پولنگ اتوار کے دن بغیرکسی گڑبڑ کے پرامن طریقے سے ہوئی اور دونوں حلقوں کے امیدواروں کی قسمت اب ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہوچکی ہے۔ دونوں حلقوں میں ووٹوں کی گنتی 13 اپریل کوہوگی۔اتوارکو صبح 7بجے شروع ہوئی پولنگ دوپہر تک سست رفتار میں ہوتی دکھائی دی۔لیکن شام 5بجے تک ننجنگڈھ میں 73فیصد اور گنڈل پیٹ میں 77 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے ۔چند ووٹنگ مشینوں میں خرابی، آخری وقت میں ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے رقم ،موبائل کرنسی ڈالنے اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے واقعات کے خلاف اقدامات پر کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان لفظی جھڑپیں اور ہلکی لاٹھی چارج کے علاوہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔پولنگ کے لئے حلقہ ننجنگڈھ میں 236 اورگنڈل پیٹ میں 250 پولنگ بوتھس قائم کئے گئے تھے ۔ صبح 10بجے کے بعد پولنگ بوتھس پرخواتین،نوجوانوں اور عمررسیدہ افراد کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ ننجنگڈھ کے کانگریس امیدوار کالاکیشومورتی نے پولنگ بوتھ نمبر 119 پرپہنچ کر اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ زیادہ حساس حلقہ کے طورپر نشاندہی کئے گئے ’’بدن والو‘‘دیہات میں پولنگ پرامن طریقے سے ہوئی۔ننجنگڈھ کے اشوکا پورم پولنگ بوتھ سے قریب بی جے پی کارکنوں زعفرانی ٹی ۔شرٹس پہن کر ووٹروں میں موبائل کرنسی ریچارج کرواتے ہوئے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کارکنوں نے بی جے پی کارکنوں کے ساتھ لفظی جھڑپ کی۔اطلاع پاکر پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کو پولنگ بوتھ سے باہر کردیا ۔انتخابی افسروں نے وہاں پہنچ کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس پولنگ بوتھ کیلئے افزود پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا۔پولنگ بوتھ نمبر49 میں انتخابی ملازمین نے بائیں ہاتھ کی انگلی کو نشان لگانے کے بجائے دائیں ہاتھ کی انگلی کو نشان لگانے سے تھوڑی دیر کے لئے افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔اس کی اطلاع پاکر موقع پر انتخابی افسروں وہاں پہنچ گئے اور حالات پر قابو پالیا۔ گنڈل پیٹ کے وارڈ نمبر14 کے 206 ویں پولنگ بوتھ سے قریب بی جے پی کارکنوں ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ جسے دیکھنے کے بعد کانگریس کارکن شورمچانے لگے اوربی جے پی کارکنوں کو فوری گرفتارکرنے کی مانگ کی اسی بات کو لے کر دونوں گروپوں کے درمیان لفظی جھڑپ اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ بعد میں پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرکے حالات کو قابو میں کرنا پڑا۔ کانگریس امیدوار گیتا مہادیو پرساد اپنے بیٹے گنیش اورخسرکے ہمراہ مہادیوپرساد کی سمادھی پر پہنچ کر پوجا ادا کرنے کے بعد اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ بی جے پی امیدوار نرنجن کمارنے اپنے گھر والوں کے ہمراہ تعلق کے چوڈاہلی کے پولنگ بوتھ پہنچ کر اپنا ووٹ ڈالا۔ ترکنابی ہنڈی، مڈہلی،پولنگ بوتھ نمبر106,105 اور بھیمن مڈودیہات کے پولنگ بوتھوں میں ووٹنگ مشینوں کی خرابی کی وجہ سے تھوڑی تاخیر سے ووٹنگ شروع ہوئی۔ بوگور کے پولنگ بوتھ نمبر20,19,18 کے باہر بی جے پی اورکانگریس کارکنوں کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی۔ ننجنگڈھ حلقہ میں جملہ 7 امیدوار میدان میں ہیں ۔اس طرح گنڈل پیٹ حلقہ میں بھی جملہ 13 امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ بنیادی سہولتیں مہیا نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مہادیونگر پولنگ بوتھ میں ووٹروں نے ووٹنگ کا مکمل بائیکاٹ کردیا۔ گنڈل پیٹ حلقہ کے انگلو دیہات کی دیوما(93) اپنی کمزور صحت کے باوجود پولنگ بوتھ پہنچ کر اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ ننجنگڈھ حلقہ کے کانگریس امیدوار کالاراکیشومورتی پر پارٹی نشان کی شال اوڑھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کرنے پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی کے انتخابی افسر سے شکایت کی گئی۔ پولنگ کے دوران مذکورہ دونوں حلقوں میں پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ بغیر شناختی کارڈ کے کسی کو بھی پولنگ بوتھ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔دونوں حلقوں میں مسلم خواتین نے پولنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ووٹوں کی گنتی 13 اپریل کو ہوگی۔


Share: